تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I شیطانِ بزرگ کی سب سے بڑی طاقت اس کا اسلحہ نہیں بلکہ اس کا خوف ہے۔ وہ دلوں میں ہیبت پیدا کرتا ہے، ذہنوں کو مرعوب کرتا ہے، اور پھر سیاسی و عسکری دباؤ کے ذریعے قوموں کو جھکا لیتا ہے۔ لیکن جب کوئی ملت اپنے ربّ سے جڑ جاتی ہے تو خوف کی یہ فضا خود بخود ٹوٹنے لگتی ہے۔ آج اگر کوئی قوم استکبار کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے اور پابندیوں، دھمکیوں اور محاصروں کے باوجود سر نہیں جھکاتی تو اس کا سرچشمہ سیاسی حکمتِ عملی سے زیادہ ایمانی یقین ہے۔ یہی وہ راز ہے جسے قرآنِ حکیم نے کھول کر بیان کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۂ محمد میں ارشاد فرماتا ہے:
“ذٰلِكَ بِأَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَاَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ” (سورۃ محمد، 47:11)۔
ترجمہ: “یہ اس لیے کہ اللہ ایمان والوں کا کارساز اور سرپرست ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں۔”
یہ آیت محض ایک عقیدہ بیان نہیں کرتی بلکہ تاریخ کا ایک اٹل قانون سامنے رکھتی ہے۔ “مولا” کا لفظ یہاں غیر معمولی معنویت رکھتا ہے۔ مولا صرف مددگار نہیں، بلکہ سرپرست، نگہبان، رہنما اور حقیقی حامی ہے۔ گویا اہلِ ایمان کے پیچھے ایک ایسی قوت کھڑی ہے جو نہ محدود ہے، نہ مغلوب ہو سکتی ہے، نہ تھکتی ہے اور نہ بدلتی ہے۔ اس کے مقابلے میں باطل کی پشت پناہی عارضی اتحادوں، مفاداتی معاہدوں اور وقتی طاقتوں پر قائم ہوتی ہے۔ وہ آج ہے، کل نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جس قوم کا مولا اللہ ہو، وہ وقتی طاقتوں سے مرعوب نہیں ہوتی۔ اس کی نظر واشنگٹن، ماسکو یا کسی اور عالمی مرکزِ طاقت پر نہیں، بلکہ عرش کے مالک پر ہوتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ زمین و آسمان کا نظام جس کے قبضے میں ہے، اسی کے ہاتھ میں عزت و ذلت بھی ہے۔ اگر اس کی رضا شاملِ حال ہو تو پابندیاں بھی ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہیں، اور اگر اس کی نصرت شامل ہو تو قلتِ وسائل بھی غلبے میں بدل جاتی ہے۔
اسی حقیقت کو سورۂ آل عمران میں ایک تاریخی منظر کے ذریعے واضح کیا گیا:
“اَلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِيْمَانًا وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ” (آل عمران، 3:173)۔
ترجمہ: “جن لوگوں سے کہا گیا کہ دشمن تمہارے مقابل جمع ہو چکے ہیں، ان سے ڈرو؛ تو اس بات نے ان کا ایمان اور بڑھا دیا اور انہوں نے کہا: اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔”
یہ آیت غزوۂ اُحد کے بعد کے اس نازک مرحلے کی طرف اشارہ کرتی ہے جب مسلمانوں کو نفسیاتی طور پر توڑنے کی کوشش کی گئی۔ شکست کی تھکن، زخموں کی تکلیف اور دشمن کی دھمکی — یہ سب مل کر خوف کی فضا پیدا کر سکتے تھے۔ مگر قرآن بتاتا ہے کہ سچے ایمان والوں کے لیے یہ دھمکی ایمان میں اضافے کا سبب بن گئی۔ گویا جس چیز سے دشمن خوف پیدا کرنا چاہتا تھا، وہی چیز اہلِ ایمان کے اندر یقین کو اور مضبوط کر گئی۔
یہاں ایک نہایت گہرا نفسیاتی نکتہ ہے۔ عام انسان خطرے کی خبر سن کر سہم جاتا ہے، لیکن مومن خطرے کی خبر سن کر اپنے ربّ کی طرف اور زیادہ متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس کی زبان پر شکوہ نہیں، بلکہ یہ جملہ آتا ہے: “حسبنا اللہ ونعم الوکیل” — “اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔” یہ جملہ دراصل اعلانِ آزادی ہے؛ آزادی خوف سے، آزادی مرعوبیت سے، آزادی طاقت کے سحر سے۔
قرآن اسی سورت میں آگے فرماتا ہے:
“فَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ” (آل عمران، 3:139)۔
ترجمہ: “نہ کمزور پڑو اور نہ غم کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔”
یہاں غلبے کو ایمان سے مشروط کیا گیا ہے۔ گویا اصل معرکہ میدان میں نہیں، دل کے اندر برپا ہوتا ہے۔ اگر دل میں ایمان غالب ہے تو بیرونی شکست بھی وقتی ثابت ہوتی ہے؛ اور اگر دل میں خوف غالب ہو جائے تو ظاہری کامیابی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔
ان آیات کی روشنی میں یہ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ ایمانی استقامت کسی قوم کو ناقابلِ تسخیر بنا دیتی ہے۔ شیطانِ بزرگ کی حیرت اسی لیے ہے کہ اس کے حساب و کتاب میں صرف معاشی طاقت، عسکری بجٹ اور سیاسی اتحاد شامل ہوتے ہیں؛ مگر وہ اس عنصر کو نہیں سمجھ پاتا جسے قرآن “مولویتِ الٰہی” کہتا ہے۔ جب کسی قوم کے دل میں یہ یقین جاگزیں ہو جائے کہ ہمارا مولا اللہ ہے، تو اس کے سامنے خوف کی ساری دیواریں گر جاتی ہیں۔
پس اصل سوال یہ نہیں کہ دشمن کتنا طاقتور ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ایمان کتنا زندہ ہے۔ اگر ایمان زندہ ہے تو دھمکیاں ایمان کو بڑھائیں گی، کم نہیں کریں گی۔ اور اگر یقین کمزور ہو تو معمولی دباؤ بھی قوموں کو جھکا دیتا ہے۔ قرآن کا پیغام واضح ہے: اللہ کی سرپرستی پر یقین رکھو، خوف خود بخود رخصت ہو جائے گا، اور استقامت تاریخ کا دھارا بدل دے گی۔
اسی سورہ میں فرمایا گیا:
“فَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ” (آل عمران، 3:139)۔
ترجمہ: “نہ کمزور پڑو اور نہ غم کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔”
یہاں غلبے کو ایمان سے مشروط کیا گیا ہے۔ یعنی اصل برتری روحانی اور اخلاقی برتری ہے، جو بالآخر سیاسی و اجتماعی غلبے کی صورت اختیار کرتی ہے۔
قرآن مزید فرماتا ہے:
“اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ” (سورۃ محمد، 47:7)۔
ترجمہ: “اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔”
یہ آیت استقامت کا عملی اصول بیان کرتی ہے۔ نصرتِ الٰہی محض دعویٰ سے نہیں، بلکہ دین پر عملی وفاداری سے ملتی ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
“وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ” (جامع ترمذی، حدیث 2516)۔
ترجمہ: “جان لو! اگر ساری امت تمہیں فائدہ پہنچانے پر جمع ہو جائے تو وہ تمہیں وہی فائدہ دے سکتی ہے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر سب تمہیں نقصان پہنچانے پر جمع ہو جائیں تو وہ تمہیں وہی نقصان پہنچا سکتے ہیں جو اللہ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے۔”
یہ حدیث ایک مومن کو عالمی اتحادوں اور طاقتور بلاکوں کے خوف سے آزاد کر دیتی ہے، کیونکہ تقدیر کا قلم اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا یہ ارشاد کہ:
“مَنِ اتَّكَلَ عَلَى اللَّهِ لَا يُغْلَبُ” (نہج البلاغہ، حکمت 82 کے مفہوم سے)
ترجمہ: “جو اللہ پر بھروسا کرے وہ مغلوب نہیں ہوتا” —
اپنے اندر ایک ہمہ گیر فکری اور عملی دستور رکھتا ہے۔
یہ جملہ اگرچہ مختصر ہے، مگر اس میں ایک مکمل فلسفۂ حیات سمٹ آیا ہے۔ یہاں “اتّکال” کا لفظ محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ قلبی یقین، عملی عزم اور اخلاقی استقامت کا مجموعہ ہے۔ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسباب کو ترک کر دے، یا میدانِ عمل سے کنارہ کش ہو جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان تمام ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد اپنے دل کو اسباب کا اسیر نہ بنائے، بلکہ مسبب الاسباب پر اعتماد رکھے۔
حضرت علی علیہ السلام کی پوری زندگی اس جملے کی عملی تفسیر ہے۔ بدر ہو یا احد، خندق ہو یا خیبر — آپ نے شمشیر بھی اٹھائی، حکمت بھی اختیار کی، تدبیر بھی اپنائی، مگر دل کبھی اسلحہ یا عددی قوت پر نہیں ٹکا؛ وہ ہمیشہ اللہ کی نصرت پر قائم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، آپ کے لہجے میں اضطراب نہیں ملتا، بلکہ یقین اور سکون کی کیفیت نظر آتی ہے۔
قرآن بھی اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
“وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ” (سورۃ الطلاق، 65:3)
ترجمہ: “اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔”
گویا توکل کا انجام “کفایتِ الٰہی” ہے۔ جب اللہ کافی ہو جائے تو پھر کسی ظاہری کمی کا خوف باقی نہیں رہتا۔
حضرت علی علیہ السلام کا یہ فرمان اجتماعی زندگی کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ایک قوم جب اللہ پر توکل کرتی ہے تو وہ اپنے فیصلے خوف کی بنیاد پر نہیں کرتی، بلکہ اصول کی بنیاد پر کرتی ہے۔ وہ وقتی فائدے کے لیے اپنے نظریات کا سودا نہیں کرتی، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ رزق، عزت اور بقا کا مالک اللہ ہے، نہ کہ عالمی طاقتیں۔ ایسے معاشرے میں قیادت مرعوب نہیں ہوتی، اور عوام احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوتے۔
توکل دراصل داخلی آزادی کا نام ہے۔ جو شخص یا قوم اللہ پر بھروسا کرتی ہے، وہ انسانوں کے خوف سے آزاد ہو جاتی ہے۔ یہی آزادی اسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اگر توکل نہ ہو تو مصلحت پسندی غالب آ جاتی ہے، اور اگر توکل زندہ ہو تو استقامت جنم لیتی ہے۔
یہاں ایک اور لطیف نکتہ بھی ہے: “لا يُغلب” کا مطلب یہ نہیں کہ اسے کبھی ظاہری آزمائش پیش نہیں آئے گی، یا وقتی نقصان نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اخلاقی اور روحانی طور پر مغلوب نہیں ہوگا۔ اس کی شکست بھی اس کی فتح کا پیش خیمہ بنے گی، کیونکہ اس کا تعلق اللہ سے ہے۔ تاریخ میں کتنی ہی بار اہلِ حق کو وقتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر انجام کار باطل ہی پسپا ہوا۔
پس امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یہ جملہ دراصل ایک عملی منشور ہے:
اللہ پر توکل کرو، اسباب اختیار کرو، میدان میں ڈٹے رہو، اور دل کو خوف سے پاک رکھو۔ ایسی قوم کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، مگر مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ جس کا سہارا اللہ ہو، اس کی پشت کبھی خالی نہیں ہوتی۔
قرآنِ حکیم عزت کے سرچشمے کو نہایت قطعی انداز میں بیان کرتا ہے:
“مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا” (سورۃ فاطر، 35:10)۔
ترجمہ: “جو عزت چاہتا ہے تو (جان لے کہ) ساری عزت اللہ ہی کے لیے ہے۔”
یہ آیت انسانی تاریخ کے ایک بنیادی مغالطے کی اصلاح کرتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ عزت طاقت سے آتی ہے، دولت سے آتی ہے، عالمی حمایت سے آتی ہے، یا بڑی سلطنتوں کی سرپرستی سے آتی ہے۔ مگر قرآن اعلان کرتا ہے کہ عزت کا خزانہ صرف اللہ کے پاس ہے۔ جو اسے کسی اور دروازے پر تلاش کرے گا، وہ دراصل سایہ پکڑنے کی کوشش کرے گا۔
عزت کا مطلب صرف سیاسی برتری نہیں، بلکہ داخلی وقار، اخلاقی استقلال اور فکری خود اعتمادی بھی ہے۔ جس قوم کے دل میں یہ یقین ہو کہ ہماری عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ کسی سفارتی دباؤ یا معاشی پابندی سے اپنی شناخت کا سودا نہیں کرتی۔ وہ جانتی ہے کہ اگر اللہ کی رضا حاصل ہو جائے تو وقتی محرومیاں بھی عزت کا عنوان بن جاتی ہیں، اور اگر اللہ کی ناراضی ہو تو ظاہری کامیابیاں بھی رسوائی میں بدل جاتی ہیں۔
قرآن اسی مضمون کو ایک اور مقام پر یوں بیان کرتا ہے:
“وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ” (سورۃ المنافقون، 63:8)۔
ترجمہ: “اور عزت تو اللہ، اس کے رسول اور مومنوں ہی کے لیے ہے۔”
یہاں عزت کو ایمان کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔ گویا عزت کا راستہ ایمان سے ہو کر گزرتا ہے۔ جو ایمان کو چھوڑ کر عزت چاہتا ہے، وہ دراصل سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
تاریخ اس حقیقت کی زندہ گواہ ہے۔ جب مسلمانوں نے اپنے ربّ سے تعلق مضبوط رکھا، تو قلتِ وسائل کے باوجود وہ عظیم سلطنتوں پر غالب آئے۔ اور جب انہوں نے عزت کو دنیاوی سہاروں سے وابستہ کیا، تو تعداد اور وسائل کے باوجود ذلت ان کا مقدر بن گئی۔ عزت کا قانون وہی ہے جو قرآن نے بیان کر دیا: سرچشمہ بدل جائے تو نتیجہ بھی بدل جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ استقامت کا راز اسلحہ خانوں میں نہیں بلکہ ایمان کی گہرائی میں ہے۔ اسلحہ دفاع فراہم کر سکتا ہے، مگر حوصلہ نہیں۔ وسائل معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں، مگر وقار نہیں۔ اصل وقار اس یقین سے پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا سر جھکنے کے لیے نہیں بلکہ سجدے کے لیے بنا ہے، اور ہمارا سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے۔ جب پیشانی صرف ربّ کے سامنے جھکے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی۔
“شیطانِ بزرگ” کی حیرت دراصل اسی نکتے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے سیاسی تجزیے معاشی اعداد و شمار پر قائم ہوتے ہیں، اس کی حکمتِ عملی عسکری توازن پر مبنی ہوتی ہے، مگر وہ اس عنصر کو نہیں سمجھ پاتا جسے قرآن “عزتِ الٰہی” کہتا ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ جس قوم کے دل میں ایمان زندہ ہو، اس کی قوت کا پیمانہ ظاہری نہیں ہوتا۔ وہ دباؤ سے ٹوٹتی نہیں، بلکہ آزمائش سے نکھرتی ہے۔
قرآن کا اعلان آج بھی تازہ ہے، اور ہر دور میں سچا ثابت ہوا ہے:
اللہ اہلِ ایمان کا سرپرست ہے، اور عزت کا مالک بھی وہی ہے۔ باطل کے پاس وقتی شور تو ہو سکتا ہے، مگر دائمی وقار نہیں۔ جو قوم اللہ کو اپنا مولا مان لے اور عزت کو اسی سے جوڑ لے، اسے وقتی مشکلات تو پیش آ سکتی ہیں، مگر ذلت کبھی نصیب نہیں ہوتی۔ کیونکہ عزت کا خزانہ زمین پر نہیں، عرش کے مالک کے پاس ہے — اور وہ اسے انہی کو عطا کرتا ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے سامنے جھکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ